سید بدر سعید۔ایک حوصلہ مند،کھرا لکھاری

ازقلم: حسیب اعجاز عاشر عمر میں سید بدر سعیدچاہے چھوٹاسہی مگر اِسکی بصارت اور بصیرت کسی بزرگ صحافی سے کسی درجے کم نہیں۔درواندیشی، حالات شناسی، شخص شناسی جیسے غیر معمولی کمالات یہ جوان تو اپنے قلم کی نوک پے لئے پھرتا ہے۔اور جب انہیں قرطاس کی زینت بناتا ہے تو

”نوک نوک۔۔کامیابی ہے منتظر”۔۔ایک منفرد کاوش

از : حسیب اعجاز عاشر ''آئو کسی مقصد کے لئے جیتے ہیں،آئو کسی مقصد کے لئے مرتے ہیں۔۔۔میری سوچ کا محور اسلام امت اور پاکستان۔۔۔سب کچھ نہ سہی کچھ نا کچھ ضرور کرنا ہے۔۔۔ہاں میرا دل بار بار مجھ سے کہتا ہے کہ ''نوک نوک۔۔کامیابی ہے منتظر''۔۔''یہی وہ سوچ ،فکر،نظریہ ہے

کب تک درد کے تحفے بانٹو, نذرِ جالب

کب تک درد کے تحفے بانٹو خونِ جگر سوغات کرو ”جالب ہن گل مک گئی اے” ھن جان نوں ہی خیرات کرو کیسے کیسے دشمنِ جاں اب پرسش حال کو آئے ہیں ان کے بڑے احسان ہیں تم پر اٹھو تسلیمات کرو تم تو ازل کے دیوانے اور دیوانوں کا

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا اتنا بھی کہا نہ مان میرا میں دکھتے ہوئے دلوں کا عیسیٰ اور جسم لہو لہان میرا کچھ روشنی شہر کو ملی تو جلتا ہے جلے مکاں میرا یہ ذات یہ کائنات کیا ہے تو جان مری جہان میرا تو آیا تو کب پلٹ کے

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں

 انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں ساقی

جاناں جاناں

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں