شاعر ہیں ہر اک دور میں رخشندہ رہینگے

دنیائے شعروادب کے گوہر نایاب فیاض وردگ(کویت) کے اعزاز میں تقریب ''آزادی مشاعرہ۔۔2016'' ازقلم: حسیب اعجاز عاشر چودہ اگست تو گزر گئی مگر جشنِ آزادی کی رونقیں تاحال اپنے عروج پر ہیں،ہر سطح پر مختلف حلقوں میں طرح طرح کی رنگ برنگی دلکش،دلدار تقاریب کے انعقادسے آزادی کی خوشیوں کو

کب تک درد کے تحفے بانٹو, نذرِ جالب

کب تک درد کے تحفے بانٹو خونِ جگر سوغات کرو ”جالب ہن گل مک گئی اے” ھن جان نوں ہی خیرات کرو کیسے کیسے دشمنِ جاں اب پرسش حال کو آئے ہیں ان کے بڑے احسان ہیں تم پر اٹھو تسلیمات کرو تم تو ازل کے دیوانے اور دیوانوں کا

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا

تجھ پر بھی نہ ہو گمان میرا اتنا بھی کہا نہ مان میرا میں دکھتے ہوئے دلوں کا عیسیٰ اور جسم لہو لہان میرا کچھ روشنی شہر کو ملی تو جلتا ہے جلے مکاں میرا یہ ذات یہ کائنات کیا ہے تو جان مری جہان میرا تو آیا تو کب پلٹ کے

انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں

 انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چپ ہیں کیا بات ہے سرکار بڑی دیر سے چپ ہیں آسان نہ کر دی ہو کہیں موت نے مشکل روتے ہوئے بیمار بڑی دیر سے چپ ہیں اب کوئی اشارہ ہے نہ پیغام نہ آہٹ بام و در و دیوار بڑی دیر سے چپ ہیں ساقی

جاناں جاناں

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی

اس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کی آج پہلی بار اس سے میں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میں یا تو ٹوٹ کر رویا یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میں آج اس سے مجبوراً