سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں تو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی سو ہم بھی اس

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں

ابھی کچھ اور کرشمے غزل کے دیکھتے ہیں فراز اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں جدائیاں تو مقدر ہیں پھر بھی جانِ سفر کچھ اور دور ذرا ساتھ چل کے دیکھتے ہیں رہِ وفا میں حریف خرام کوئی تو ہو سو اپنے آپ سے آگے نکل کے دیکھتے ہیں تو سامنے ہے

اگر ملنا ضروری ہے

خدا جانے تمہارے ذہن میں کیا ہے؟ مرے بارے میں تم کیا سوچتی ہو کہہ نہیں سکتا مگر میں اسلئے ملنے سے کتراتا ہوں تم سے کہ وہ باتیں جو ہم لکھتےہیں اپنےخط میں چاہت سے وہ باتیں اور باتیں ہیں وہ باتیں ایسی باتیں ہیں کہ بس باتیں

اک بار مجھے آواز تو دے

اک بار مجھے آواز تو دے ترے لمس کی خوشبو پہنوں گا ترے درد کو ہار بنائوں گا اک بار مجھے آواز تو دے میں صدیوں پار سے آئوں گا ابھی کاغذ پر میں لکھتا ہوں بے صَوت ہے میرا شہرِ سخن جب دھڑکن لفظ میں گونجے گی میں

اب آنے والی ہے فصلِ بہار، سوچتے تھے

اب آنے والی ہے فصلِ بہار، سوچتے تھے ہم اس طرح تو بہت اعتبار سوچتے تھے جگائے رکھتی تھی راتوں کو کیسی بے چینی کسی کی بات پہ ہم کتنی بار سوچتے تھے وہ سامنے ہے تو پھر کچھ بھی کہہ نہیں پاتے نہ تھا وہ پاس تو باتیں ہزار سوچتے

آنے والی تھی خزاں، میدان خالی کر دیا

آنے والی تھی خزاں، میدان خالی کر دیا کل ہوائے شب نے سارا لان خالی کر دیا ہم ترے خوابوں کی جنت سے نکل کر آ گئے دیکھ، تیرا قصر عالی شان خالی کر دیا دشمنوں نے شست باندھی خیمئہ امید پر دوستوں نے درہ امکان خالی کر دیا بانٹنے نکلا ہے