وزیراعظم کی لندن میں آپریشن اور آرام کے بعد وطن واپسی

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف لندن میں دل کے کامیاب آپریشن اور چھ ہفتے آرام کے بعد خصوصی جہاز کے ذریعے واپس لاہور پہنچ گئے ہیں۔

نواز شریف 22 مئی کو علاج کی غرض سے برطانیہ گئے تھے جہاں 31 مئی کو ان کی اوپن ہارٹ سرجری ہوئی تھی۔

سنیچر کو وزیرِ اعظم پاکستان انٹرنیشل ایئرلائنز کے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے لندن کے سٹین سٹڈ ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے کے قریب لاہور ایئر پورٹ پہنچے جہاں وزیراعلیٰ پنجاب، وزیر داخلہ، وزیر خزانہ سمیت ان کی جماعت کے متعدد شخصیات نے استقبال کیا۔

ٹی وی پر دیکھائے جانے والے مناظر میں وزیراعظم جہاز سے سیڑھیوں کے ذریعے اترے جہاں ان کے استقبال کے لیے کھڑے افراد سے فرداً فرادً مصافحہ کیا اور بعد میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور سے متصل جاتی امرا میں واقع اپنی ذاتی رہائش گاہ پہنچ گئے۔

آپریشن کے بعد وہ آرام کی غرض سے گذشتہ چھ ہفتوں سے لندن میں ہی مقیم تھے۔

لندن سے روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ قوم کے تہہ دلِ سے شکرگزار ہیں جس نے ان کی صحتیابی کے لیے دعا کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

جاتی امرا میں آمد پر وزیراعظم نواز شریف کی اپنی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد سے ملاقاتیں کیں

وزیراعظم کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کرنے پر ترجمان پی آئی اے نے اس حوالے سے ایک بیان میں بتایا تھا کہ وزیراعظم چونکہ لندن میں اپنے عملے کے ساتھ امور حکومت دیکھ رہے تھے جس کے لیے ایک کیمپ آفس لندن میں قائم کیا گیا تھا اور دفتر کی دستاویزات اور عملے کو عام پرواز سے لانا ممکن نہیں تھا اس لیے خصوصی طیارہ بھیجا گیا ہے۔

نواز شریف کو واپس لانے کے لیے خصوصی طیارہ روانہ کیے جانے پر اپوزیشن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف ایسے وقت میں ملک سے باہر گئے تھے جب پاناما لیکس میں اُن کے بچوں کی آف شور کمپنیاں منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کو پارلیمان میں سخت مزاحمت کا سامنا تھا۔

حکومت نے عدالتی کمیشن کے ذریعے پاناما لیکس کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا لیکن پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی تحقیقات کے ضوابط کار پر متفق نہیں ہو سکی۔

وزیراعظم کے ملک واپسی کے وقت بھی پارلیمانی کمیٹی میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

ملک میں حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریکِ انصاف نے الیکشن کمیشن میں وزیراعظم کی نااہلی کے لیے ریفرنس دائر کیا ہے جبکہ تحریک انصاف کرپشن کے خلاف سڑکوں پر آنے کی بات بھی کر رہی ہے۔

Shahid Ghuman
Shahid Ghuman
شاہد گھمن ورسٹائل صحافی ہیں اور ان کا صحافت کا 20سالہ تجربہ ہے۔ان کی بین الاقوامی امور پر گرفت ہے۔شاہد گھمن نہ صرف صحافی ہیں بلکہ اینکر پرسن ہیں اور مختلف ٹی وی پروگرامز کے میزبان بھی ہیں۔