دل کی باتیں میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے؟

DIL KE BATAIN
عطاء الرحمان چودھری
آل جموں و کشمیر ویلفیئر فاؤنڈیشن واہ چھاؤنی کے زیر ِ اہتمام گذشتہ روز مقامی ہوٹل میں کشمیری شاعر سید عارف مرحوم کینظموںپر مشتمل کتاب ”لہو کی فصلیں ” کا انگریزی ترجمہ پنڈی گھیب ضلع اٹک کی ممتاز علمی شخصیت پروفیسر ابرار شاکر نے crops of bloodکر کے کشمیر کی تحریک آزادی کی جدوجہد کو عالمی سطح پر اصل حقیقت سے آگاہی کے لیے جو خوبصورت کو شش کی ہے ا سی حوالہ سے کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہے۔سٹیج پر تحریک نوجوانان پاکستان کے چیئرمین ممتاز انقلابی نوجوان عبداللہ گل اور صدر مجلس ممتاز ماہر ِ اقبالیات ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی،صاحب کتاب پروفیسر ابرارشاکر، ای ڈی او (ایجوکیشن ) قاضی ظہور الحق، پروفیسر امان اللہ ملک اور میزبان تقریب حاجی عبدالوھاب عابد تشریف فرما ہیں جبکہ سامعین میں واہ،ٹیکسلا حسن ابدال،حضرو،اٹک، جنڈ، پنڈی گھیب اور آزاد کشمیر سے علمی ،ادبی ،سماجی،سیاسی ،صحافتی حلقوں کی نمایاں شخصیات اور کشمیری کمیونٹی کیپیرو جوان موجود ہیں۔تلاوت کلام پاک و نعت رسول مقبول ۖ کے بعد راقم جس کے حصہ میں نظامت کے فرائض شامل تھے تقریب کی غرض و غائیت اور مہمانانِ گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے، سردار محمد شفیق ممتاز کشمیری دانشور جن کا تعلق ضلع سدھنوتی (پلندری) کو پہلے مقرر کے طور پرسٹیج پر بلایا جنھوں نے نہایت ہی مفصل طریق سے تحریک آزادی کشمیر اور کشمیر کے سیاسی و جغرافیائی حالات سے حاضرین کو آگاہ کرتے ہوئے پروفیسر ابرار شاکر کو خراج تحسین پیش کیا اور اُن کی خوبصورت کاوش کو شہدائے کشمیر اور غازیانِ اسلام اور جدوجہد آزادی کے لیے ایک نیا ولولہ اور ہوا کا تازہ جھونکا قراد دیتے ہوئے خوش آئند امر قرار دیا۔کم عمر طالبہ ماہ نور فاطمہ چودھری اور ممتاز ماہرین ِ تعلیم مسز آفتاب ملک ،طاہر محموددُرانی،ملک امان اللہ ،قاضی محمد ظہور الحق نے صاحب کتاب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کتاب کی مختلف انگریزی نظموں کے حوالہ سے کشمیریوں پہ ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان اور اُن کی جدوجہد آزادی کے لیے کی گئی کاوشوں کو سلام پیش کیا۔وطن عزیز کے نوجوان گلوکار ملک شاید سلیمان نے سازو آواز کے ساتھ سید عارف مرحوم کی دو نظمیں سنا کر نہ صرف حاضرین کے دلوں کو گرمایا بلکہ مقبوضہ کشمیر جو کہ تشدد کے شعلوں میں جل رہا ہے کشمیری بھارتی سکیورٹی فورسز کے جبرو استبداد کا جسطرح سے سامنا کر رہے ہیں اُسکی حقیقی انداز میں عکاسی کر کے حاضرین و ناظرین کو نیا جوش و ولولہ عطا کیا۔ (ناظرین اس لیے کہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی ، ایف ایم ہاٹ 105.6حسن ابدال پروگرام براہ راست نشر کر رہے تھے) صاحب کتاب پروفیسر ابرار شاکر جو کہ پنڈی گھیب میں نونہالان وطن کی گذشتہ 03 دھاہیوں سے علمی آبیاری ہی نہیں کر رہے بلکہ ضلع اٹک میں معیاری تعلیم کے فروغ کے حوالے سے صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے12 20 میں تمغہ امتیاز حاصل کرنے کے اعزاز کے علاوہ کئی کتب کے مصنف بھی ہیںاور پنڈی گھیب میں اُن کے تیار کردہ انجنئیرز،و کلائ،صحافی اورڈاکٹرز کی تعداد سینکڑوں میں ہے اُنھوں نے سید عارف مرحوم سے اپنی وابستگی اور کتاب ”لہو کی فصلیں ” کا انگریزی ترجمہ کرنے کی حقیقت حال کچھ یوں بیان کی وہ بین الاقوامی برادری کونہتے کشمیریوں کے خلاف اندھی طاقت کے بے جا استعمال اور ناحق ہلاکتوں کی تعداد جو چھ ہندسوں کو عبور کر چکی ہے اور عالمی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کے دوھرے معیارو کردار سے آگاہی اور غیور و بہادر کشمیری قوم کی نئی نسل اور پُر جوش لوگوں کی حق خود اریت کے لیے عالمی سطح پر تعلیم یافتہ روشناسی کے لیے حقیر سی کوشش اور شہداء کے مشن کو نیا جوش و جذبہ دینے کے لیے اپنا قلمی حق ادا کیا ہے۔
ممتاز ما ہرِ اقبالیات اور صدر مجلس ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے اپنے خوب صورت اور پُر ایمان بیان میں صاحب کتاب اور تقریب کا اہتمام کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات ہمیشہ سے واضع ہے کہ کشمیری امن نہیں بلکہ آزادی مانگ رہے ہیں ۔اور اس آزادی اور تحریک تکمیل پاکستان کیلیے اُن کی گرانقدر قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔اُنھوں نے کہا برھان الدین وانی شہید کے وارث نوجوان کشمیری جس طرح سے آزادی کشمیر کے لیے آج سر گرم ہیں اُس سے یہ بات اظہر من الشمن ہے کہ ازادی کا سورج بہت جلد طلوع ہونا والا ہے اور بھارتی سرکار کشمیر کی تحریک آزادی کے لیے سر گرم قوم بالخصوص نوجوان نسل جو تاریک لمحات مین برستیہوئی لہو رنگ اذیت کے طوفان میں جوان ہوئی ہے۔فوجی کیمپوں ،چیک پوائنٹس اور بنکرز کے حصار میں کھیلنے اور بھارتی عقوبت خانوں سے آنے والی چیخیں سن کر جوان ہونے والی اس ” مسلم نسل”کو حق خود ارادیت کے منزل کے حصول کے لیے ا ب کوئی قوت نہیں روک سکے گی۔اُنھوں نے روز نامہ نوائے وقت کی کشمیر پالیسی مرحوم حمید نظامی اور مجید نظامی کی کشمیر کے حوالے سے جرأت مندانہ موقف اور اقدامات سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا۔اُنھوں نے کہا کہ کشمیری قوم صرف اور صرف آزادی چاہتے ہیں اور کبھی بھی بھارتی درندے فوجی طاقت سے کشمیری عوام کی آزادی سلب نہیں کر سکتے کیونکہ شہداء کی قربانیوں سے یہ بات نوشتہ دیوار بن چکی ہے کی آزادی کی منزل بہت ہی قریب ہے اور سید عارف مرحوم سے اپنی صحافتی رفاقت کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک فرض شناس محب وطن اور حریت پسند لکھاری ہونے کے ساتھ ساتھ ایک درویش صفت انسان تھا۔اُنھوں نے منگ آزاد کشمیر کے ان جرات مند شہید بھائیوں ملی خان اور سبز علی خان کی جائے شہادت درخت ( کہو)کے حوالہ سے بھی حاضرین کو آگاہ کیا جہاں اُنھوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اور اپنی کھالوں کو تو کنچھوا لیا تھا لیکن آزادی کشمیر کے موقف پر لچک نہ دکھا کر ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہو گئے ۔
جنرل (ر) حمید گل مرحوم جو کہ جہاد افغانستان اور تحریک آزادی کشمیر کے حوالہ سے پوری دنیا میں ایک ہیرو کی حیثیت سے یاد رکھے جائیں گے اُن کے بیٹے اور تقریب کے مہمانِ خصوصی عبداللہ گل نے اپنی خطابت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے نہ صرف حاضرین کو آگاہی دی بلکہ وطن عزیز کے حکمرانوں اور عالمی برادری کی بے حسی پر بھی کھل کر بات کی اُنھوں نے کہا کہاافسوس کا مقام ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی آنکھیں پھیری ہوئی ہے اور امریکہ جیسی سپر پاور بھی اخلاقی طور پر اس مسئلہ سے کنارہ کشی کر چکا ہے اور جہاں تک ہماری حکومتی پالیسیوں کا تعلق ہے تو ہم نے بھی بادل نخواستہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے شہریوں پر ظلم کی مذمت ،خراب ہوتی ہوئی امن و امان کی صورتحال انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں ،کشمیریوں کے جان و مال کے نقصان اور انتہا پسند عباصر کے ہاتھوں اُن کی معاشی ناکہ بندی پر صرف اور صرف رسمی تشویش کا اظہار کر کے آگے بڑھ جانے کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔عبداللہ گل نے کہا کہ آج ایک ایسے وقت میںجب وطن عزیز پاکستان ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے ایک طرف خارجی سطح پر دشمن قوتوںنے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا ہے اور روز پاکستان کے خلاف عالمی سازش کی اطلاع مل رہی ہے تو دوسری جانب پوری قوم کو تقسیم در تقسیم کیا جارہا ہے۔ اس وقت پوری قوم مہنگائی ، افلاس ، بیروز گاری اور معاشی مسائل کیگرداب میں بری طرح پھنسی ہوئی ہے۔ حکمران طبقے کی بے حسی و بے حمیتی میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہو رہا ہے پاکستان کی نوجوان نسل کو تو سرے ہی سے آزادی کشمیر اور نظریہ پاکستان سے دور کر دیا گیا ہے ۔بھارتی چینلز اور اُسکی ثقافتی یلغار نے نوجوان نسل کو بھارتی ر قص و سرور کا دلدادہ بنا دیا ہے سماجی ،علمی ، سیاسی محافل ،ناچ گانے کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں،ذمہ داران اور عنان ِ اقتدار رکھنے والے طبقے میں احساس زیاں نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے حکمرانوں کی عیاشیوں ،اللے تللوں اور فحاشی و بے حیائی پر مبنی سر گرمیوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ بحیثیت قوم اللہ تعالیٰ کے غضب اور لعنت کو ہم دعوت عام دے رہے ہیں۔ایسے ہی حالات کی سدھار کے لیے علامہ اقبال نے ہی تو کہا تھا کہ
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے شمشیر و سنان اؤل،طاوس و رباب آخر
عبداللہ گل نے کہا ہے کہ ہماری پاک فوج دنیا کی مانی ہوئی بہادر فوج ہے جس نے دنیا کے 140 ممالک کی فوجوں کو کچھاڑ کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔پاکستانی آئی ایس آئی نے روس کے سولہ ٹکڑے کیے اُنھوں نے اپنے والد مرحوم جنرل حمید گل کے متعلق کہا کہ اُنکی خدمات کے عوض اُنھیں سعودی عرب نے مجاہد اسلام کا خطاب دیا۔سی پبلک منصوبہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کا ایک ایسا سنگ میل ہے اس سے وسطی ایشیائی ممالک تک تجارت کو فروغ حاصل ہو گا اور ہم خوشحالی کی طرف جائیں گے ۔اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ہماریبہن عافیہ صدیقی امریکی قیدمیںہے جہاں اسکی عزت کا روز کھلواڑ کیا جاتا ہے۔آج کیوں نہیں کوئی محمدبن قاسم اور صلاح الدین ایوبی پیدا ہو رہا جو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرے ۔عبداللہ گل نے کہا کہ آج انڈیاکا میڈیا چیخ رہا ہے کہ کشمیر موومنٹ کو جنرل حمید گل کا بیٹا عبداللہ گل چلا رہا ہے گھمبیر آبی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ہم نے ”اکوا” کے تحت 2009میں پاکستان میں درپیش آبی مسائل پر تحقیق کی جس کے مطابق قیام پاکستان کے وقت پانچ ہزار آٹھ سو کیوسک فٹ پینے کا صاف پانی ہر شخص کو میسر تھا اب صرف چودہ سو کیوسک رہ گیا ہے اور آنے والے دنوں میں ساڑھے سات سو فیصد رہ جائے گا۔اس پوزیشن میں زندہ رہنا محال ہو جائے گا ۔لہذا ایسے حالات میں ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے بھوکے پیاسے ہندوستان سے جنگ لڑنا ہے یا پھر آج اپنے حقکیلئے اُٹھنا ہے تا ہم یہ بات طیہے کہ ہندوستان سے بحر حال جنگ کرنا نا گریز ہے ہندوستان نے تو آبی بم گرا کر پاکستان کو تباہ کرنے کی جو کاوش کی ہے اورسازش بُنیہے اسکا جواب ضروری ہے اسی میں ہم سب کی بقاء ہے ۔پاکستان کو نا کام ریاست سمجھنے اور کہنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں ۔تحریک نوجوانان پاکستان کا موٹو ہے کہ تمام رشتے صرف اللہ اور قرآن سے جوڑو اسی میں ہماری فلاح ہے۔اختتام تقریب ابرار احمد خان ڈویثرنل صدر آل پاکستان پرائیویٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن راولپنڈی ڈویثرن نے نہایت خلوص و ایثار اور عاجزی سے ملت اسلامیہ اور شہداء کشمیر کیلئے اور واہ چھاؤنی کے معروف ادیب و افسانہ نگار طفیل کمال زئی مرحوم کے درجات کے لیے بھی دعا کی گئی۔قارئین کرام بحیثیت قوم ہمیں اپنی سلامتی، آزادی ،خود مختاری اور جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے یکجا ہو کر ملت واحدہ بنکر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آزادی کشمیر کے لیے سنجیدگی سے نہ صرف سوچنا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہونگے ۔کشمیر مذمت سے نہیں بلکہ ہندو کی مرمت سے آزاد ہو گا ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے جنگ کے بغیر کوئی چارہ نہیں پاکستان ایک نور ہے اور ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔
آزادی کشمیر زندہ باد پاکستان پائندہ باد

Shahid Ghuman
Shahid Ghuman
شاہد گھمن ورسٹائل صحافی ہیں اور ان کا صحافت کا 20سالہ تجربہ ہے۔ان کی بین الاقوامی امور پر گرفت ہے۔شاہد گھمن نہ صرف صحافی ہیں بلکہ اینکر پرسن ہیں اور مختلف ٹی وی پروگرامز کے میزبان بھی ہیں۔