گورنر ہاؤس میں ﷲ کے دوستوں کی پذیرائی

ZUILFIQARAHMADCHEEMAOPIN-1492537509-316-640x480
ذوالفقار احمد چیمہ

سن رکھا تھا کہ تینوں بھائی پڑھے لکھے اور ایماندار ہیں، ان میں سے ایک گورنر ہیں جن سے چند روز قبل پہلی بار گورنر ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ معیشت اور نوجوانوں کو ہنر مند بنانیکی اہمیّت اور افادیّت کا مکمّل ادراک رکھتے ہیں۔ پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت چھ مہینے کی مفت فنّی تربیّت کے دوران نوجوانوں کو ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے اور آخر میں متعلقہ ھُنر کے اوزار (Tool Kits) بھی تقسیم کیے جاتے ہیں۔ آقائے دوجہاںؐ کا فرمان ہے الکاسب حبیب اﷲ۔ ہاتھ سے کام کرنے والا اﷲ کا دوست ہے۔

گورنر صاحب سے جب کہا گیا کہ گورنر ہاؤس میں صاحبانِ ثروت اور بارسوخ لوگوں کے اجتماع تو ہوتے رہتے ہیں کیوں نہ اس بار ہنر مندوں کی تقریب بھی وہیں منعقد ہو۔ وہ نادار سہی مگر حضورؐ نے انھیں اﷲکا دوست قرار دیا ہے اس لیے انھیں عزّت ملنی چاہیے۔ گورنر صاحب نے اﷲکے دوستوں کی مہمان نوازی کی فوراً حامی بھرلی لہٰذا فنّی تربیّت مکمل کرنے والے نوجوانوں میں ٹول کٹس تقسیم کرنے کی تقریب گورنر ہاؤس کراچی میں منعقد ہوئی ،گورنر محمد زبیر صاحب مہمانِ خصوصی تھے۔ مہمانوں میں کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شمیم احمد فرپو صاحب اور مرزا اشتیاق بیگ صاحب کے علاوہ معروف صنعتکاران، آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ، ولی اﷲدل ، ڈاکٹر نجف مرزا سمیت سندھ کے نیک نام پولیس افسران اور تعلیمی و تربیّتی اداروں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ گورنر کے ملٹری اسٹاف نے راقم کو بتایا کہ اسٹیج پر تین کرسیاں رکھی گئی ہیں گورنر صاحب کے ایک جانب آپ بیٹھیں گے اور دوسری جانب کراچی چیمبر کے صدر۔ تینوں کرسیاں بانیٔ پاکستان کے پورٹریٹ کے نیچے لگائی گئی تھیں۔

پھر گورنر ہاؤس اسٹاف کے ایک معمرّ رکن بتانے لگے یہ وہی جگہ ہے جہاں پاکستان کی پیدائش کے روز حضرتِ قائداعظم ؒ ، گورنر جنرل کا حلف اٹھانے کے بعد بیٹھے تھے ۔ اس کے بعد بھی کئی تاریخی اجلاسوں کے موقع پر قائد اعظم اس جگہ پر بیٹھتے رہے ہیں۔ یہ سن کر جسم پر کپکپی سی طاری ہوگئی۔ قائدؒ کی جائے نشست پر بیٹھنا بہت بڑا اعزاز توہے مگر وہاں بیٹھے ہوئے سارا وقت ضمیر کچوکے لگاتا رہیگا، احساسِ جرم مضطرب رکھے گا کہ قائدؒ کی جائے نشست پر بیٹھنے کا تو وہی حقدار ہوسکتا ہے جسمیں اُس اجلے کردار کے بے مثال انسان کے کچھ اوصاف تو ہوں۔اس میں دیانت ہو، اصول پرستی ہو، اس کے دامن پر کوئی داغ نہ ہو،اگر ایسا نہیں ہے تو وہ اس جگہ بیٹھنے کا قطعاً حقدار نہیں ہے جہاں مسلمانوں کا عظیم محسن اور بیسویں صدی کا سب سے با کردار سیاستدان بیٹھتا تھا۔
Advertisement

کارروائی کی انچارج نیوٹیک کی ڈائریکٹر نبیلہ عمر نے اسٹیج پر آکر بیٹھنے کی دعوت دی تو راقم نے ایک احساسِ ندامت کے ساتھ جاکر گورنر صاحب کے ساتھ والی نشست سنبھال لی۔ تلاوتِ کلام ِبرحق اور قومی ترانے کے بعد اسٹیج سیکریٹری نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت چھ مہینے کی تربیّت مکمّل کرلینے والے نوجوانوں (جن میں Tool Kitsتقسیم کرنے کی تقریب تھی) میں سے چند لڑکے اور لڑکیاں اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہتی ہیں۔ انھیں باری باری اسٹیج پر بلایا گیا۔

سب سے پہلے ایک نوجوان آیا اُس نے مائیک پر بولنا شروع کیا ” میرا نام غلام عباس ہے میں حیدرآباد کا رہنے والا ہوں ، میرے والدین کے اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ مجھے اور پڑھا سکتے ۔ مجھے کسی نے بتایا کہ پرائم منسٹر یوتھ کا پروگرام چل رہا ہے میں نے پلمبر کے کورس میں داخلہ لے لیا، کورس بالکل مفت تھا ۔ ماہانہ وظیفہ بھی ملتا تھا جس سے میرا کرایہ اور روٹی کا خرچہ نکل آتا تھا۔ چھ مہینے کی ٹریننگ کے بعد اب میں پلمبر بن چکا ہوں اور مجھے کام ملنا شروع ہوگیا ہے۔ اﷲ کے فضل سے اب ہم بھوکے نہیں رہیں گے ۔ میں گھر کا سارا خرچہ اُٹھا لونگا۔ اتنا اچھا کورس کرانے پر نیوٹیک کا شکریہ “۔ ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔

پھرملیر کی ایک لڑکی عظمیٰ اسٹیج پر آئی اور پورے اعتماد سے بولنے لگی “میرے والد صاحب بوڑھے اور معذور ہیں، میں تعلیم جاری نہیں رکھ سکتی تھی لہٰذا میں نے پرائم منسٹر یوتھ اسکل پروگرام کے تحت Cookingکے کورس میں داخلہ لے لیا۔ چھ ماہ کی مفت ٹریننگ ہوئی وظیفہ بھی ملتا رہا۔ چھٹے مہینے میں ہنرمندی کے مقابلے ہوئے میں نے اسمیں پچاس ہزار روپے کا انعام جیتا۔ ٹریننگ مکمل کرتے ہی مجھے ایک بڑے ہوٹل میں ملازمت مل گئی ہے اور اب میں خود اپنے گھر کے اخراجات پورے کررہی ہوں‘‘۔ ہال پھر تالیوں سے گونج اُٹھا۔

اس کے بعد ایک اور نوجوان منصور علی مائیک پر آیا اور پورے اعتماد سے بتانے لگا “میں نے نیوٹیک کا چھ مہینے کا کمپیوٹر ہارڈوئیر نیٹ ورک کا کورس کیا ہے، میرے والدین غریب تھے ہم فیس نہیں دے سکتے تھے، یہ بڑا اچھا کورس تھا کہ مفت بھی تھا اور ماہانہ وظیفہ بھی ملتا تھا۔ کورس اتنا مفید تھا کہ میں نے اس میں بہت کچھ سیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ کورس کرنے کے بعد ایک کمپنی میں میں نے ٹیسٹ دیا اور انھوں نے مجھے ملازمت دے دی ہے، اﷲ کا شکر ہے کہ ہمارے گھر کے حالات بدل گئے ہیں، میں حکومت کا شکرگزار ہوں “۔

پھر ایک لڑکی شکیلہ نے اسٹیج پر آکر مائیک سنبھال لیا اور کہنے لگی “میرا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے ہے لہٰذا میرے لیے تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا۔ مجھے کسی نے نیوٹیک کے کورس کے بارے میں بتایا تو میں نے بیوٹیشن کے کورس میں داخلہ لے لیا۔ چھ مہینے کی بڑی اچھی ٹریننگ ہوئی جسکے بعد میں نے اپنے گھر پر ہی اپنا پارلر بنالیا ہے، اوربہت اچھا کام چل گیا ہے اﷲکے فضل سے اب میں پورے گھر کو سپورٹ کررہی ہوں،تھینک یو پرائم منسٹر صاحب۔‘‘ پھر تالیاں بج اٹھیں۔

چاروں ہنرمندوں نے فنّی ہنرمندی کی افادیّت کے موضوع پر مزیدکچھ کہنے کی گنجائش نہ چھوڑی تھی۔ راقم نے نیوٹیک کے کچھ نئے initiativesکے بارے میں بتایا۔ کراچی چیمبر کے صدر صاحب نے نیوٹیک کی کوششوں میں حصّے دار بننے کا اعلان کیا اور گورنر زبیر صاحب نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں ٹول کٹس سے بھرے ہوئے بیگ تقسیم کیے اور اس کے بعد ایک پروفیسر کی طرح اسکل ڈویلپمنٹ ، سی پیک اور اس سے پیدا ہونے والے روشن امکانات کا سیر حاصل احاطہ کیا۔

اس کے چند روز بعد اسی طرح کی تقریب کے سلسلے میں ہم پہلے پشاور پہنچے اور پھر لاہور۔ گورنر ہاؤس پشاور میںگیلری سے گزرتے ہوئے گورنر اقبال ظفر جھگڑا صاحب انگریز گورنروں کے بڑے بڑے پورٹریٹ دکھاتے ہوئے کہنے لگے “یہاں تو ہر قدم پر تاریخی یادگاریں ہیں” میں نے عرض کیا “انگریز گورنروں نے حکمرانی بھی کی، ترقیاتی کام بھی کروائے اور جاتے جاتے پٹھانوں کی تاریخ بھی ایک انگریز گورنر (اولف کیرو) ہی لکھ گیا”۔

یہاں بھی خیبر ایجنسی کے نوجوان کامران نے تمام لوگوں کے سامنے مائیک پر آکر کہا ” میں فارغ پھرتا تھا نیوٹیک کی چھ مہینے کی ٹریننگ نے مجھے پلمبر بنادیا ہے اب میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو بھوکا نہیں مرنے دونگا”۔ ایک غریب گھرانے کی بیٹی روبینہ نے مائیک پر آکر بتایا ” ہمارے گھر میں دو وقت روٹی بھی نہیں پکتی تھی۔ میں نے اس پروگرام کے ذریعے بیوٹیشن کی تربیّت حاصل کی ہے اور اب اپنا پارلر بنالیا ہے۔ جس سے اتنی آمدنی ہورہی ہے کہ ہمارے گھر میں بھی تھوڑی سی خوشحالی آگئی ہے اور اب پہلی بار ہمارے گھر میں بھی تین وقت کھانا پکنے لگا ہے ” بچّی کی باتیں سن کر حاضرین کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ خیبر پختونخوا کے نیک نام چیف سیکریٹری عابد سعید نے فنّی ہنرمندی کی تربیّت کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا اور گورنر صاحب نے نوجوانوں کی پراعتماد باتوں کو انتہائی حوصلہ افزاء قرار دیتے ہوئے کہا ” ہم فاٹا کے ہزاروں نوجوانوں کو ہنرمند بنائیں گے اور پھر فاٹا کے امن کی حفاظت یہ نوجوان کریں گے”۔

گورنر ہاؤس میں ٹول کٹس لینے کے بعد قبائلی علاقے کے نوجوانوں کے چہرے مسّرت اور اعتماد سے دمک رہے تھے، چند نوجوانوں نے ملنے والے اوزاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بآواز بلندکہا “اب یہ ہمارے ہتھیار ہیں ہم ان کے ذریعے غربت کا خاتمہ کریں گے”۔ پشاور سے ہم لاہور پہنچ گئے۔

تقریب میں گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ صاحب کے علاوہ جناب مجیب الرحمن شامی صاحب اور لاہور چیمبر کے صدر عبد الباسط صاحب نے اظہار ِ خیال کیا۔ صحافت کے استاد اور بزرگ محترم المقام جناب الطاف حسن قریشی صاحب بھی اپنی بھرپور موجودگی سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ یہاں بھی غریب والدین کے نوجوان بچے اوربچیاّں گورنر ہاؤس کے سبزہ زاروں میں مہمانوں کی طرح گھومتے پھرتے رہے اور گورنر صاحب کے ساتھ فوٹو بنواتے رہے۔ تمام لوگ بہت خوش تھے کہ اﷲکے دوستوں کو عزّت دی گئی ہے جس کے وہ واقعی حقدار ہیں۔یورپ، کوریا اور چین کی ترقی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔بلاشبہ جو قوم اﷲکے دوستوں کو عزّت و توقیردیتی ہے اﷲسبحانہ تعالیٰ اُس پر اپنی برکتوں اور رحمتوں کے خزانے کھول دیتا ہے۔

نوٹ: مردان یونیورسٹی میں نوجوان طالب علم مشال خان کے قتل کا صدمہ پوری قوم نے محسوس کیا ہے اس کے بوڑھے اور باہمّت باپ نے یہ کہہ کر کہ ” یارا جی انصاف ملنا چاہیے” ریاست کے تمام اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ مظلوم خاندان کو انصاف دلانے میں ہر ادارے کو بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ آیندہ کسی پر توہینِ رسالتمآب ؐ کا الزام لگے تو متعلّقہ ضلع کی عدلیہ، پولیس اور انتظامیہ کے سربراہ مشترکہ طور پر انکوائری کریں اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں ایف آئی آر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہو، یہی قانون پورے ملک میں نافذ ہونا چاہیے،الزام جھوٹا ثابت ہونے کی صورت میں مدعی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور اس کی بھی سخت سزا رکھی جائے۔

Shahid Ghuman
Shahid Ghuman
شاہد گھمن ورسٹائل صحافی ہیں اور ان کا صحافت کا 20سالہ تجربہ ہے۔ان کی بین الاقوامی امور پر گرفت ہے۔شاہد گھمن نہ صرف صحافی ہیں بلکہ اینکر پرسن ہیں اور مختلف ٹی وی پروگرامز کے میزبان بھی ہیں۔