فوری ڈی پورٹ ،سختیاں ہی سختیاں،جرمنی ميں سياسی پناہ کے’’نئے اور سخت تر‘‘قوانين منظور

برلن:جرمن پارلیمنٹ نے سياسی پناہ کے نئے سخت تر قوانين کی منظوری دیدی۔ نئے قوانين ميں ملک بدری کے عمل، مہاجرين کی ذاتی معلومات تک رسائی اور ان کی نگرانی کے حوالے سے سخت موقف اختيار کيا گيا ہے۔نئے جرمن قوانين کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کو يہ اختيار حاصل ہو گا کہ وہ ان تارکين وطن کو زيادہ تيزی کے ساتھ ملک بدر کر سکيں جن کی سياسی پناہ کی درخواستيں مسترد ہو چکی ہيں۔ جرمن پارليمان نے سياسی پناہ کے حوالے سے نئے سخت تر قوانين کی منظوری جمعرات 18 مئی کو دی۔ ان قوانين کی بدولت ملکی سلامتی کے ليے خطرہ تصور کيے جانے والے مہاجرين کو فوری طور پر ملک بدر کيا جا سکے گا يا پھر ان کے ٹخنے پر اليکٹرانک بینڈ لگا کر ان کی 24 گھنٹے نگرانی ممکن ہو سکے گی۔يہ امر اہم ہے کہ نئے قوانين کے مطابق کسی مہاجر کی سياسی پناہ کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس کی ملک بدری کے احکامات پر عمل درآمد کے ليے اب نہ تو تين ماہ کا انتظار ضروری ہے اور نہ ہے حکام کو متعلقہ مہاجر کے آبائی ملک سے دستاويزات کی آمد کا انتظار کرنا ہو گا۔ گزشتہ برس جرمن دارالحکومت برلن کی ايک کرسمس مارکيٹ پر حملے کے تناظر ميں يہ انتہائی اہم قانون سازی ہے۔ تيونس سے تعلق رکھنے والے حملہ آور انيس آمری کے ملک بدری کے احکامات پر عملدرآمد اس ليے ممکن نہيں ہو سکا تھا کيونکہ اس کا آبائی ملک اس کے شناختی دستاويزات مہيا نہيں کر سکا تھا۔قبل ازيں جرمن حکام کو يہ اختيار حاصل تھا کہ کسی مہاجر کو سلامتی کے ليے خطرہ تصور کيے جانے پر اسے چار ايام تک کے ليے حراست ميں رکھا جا سکتا ہے۔ نئے قوانين ميں اس مدت ميں بھی توسيع کر دی گئی ہے اور اب حکام ايسے کسی شک کی بنياد پر متعلقہ تارک وطن کو دس دن کے لیے حراست ميں رکھ سکتے ہيں۔ منظور ہونے والے ايک اور قانون کے مطابق جرمنی کے وفاقی دفتر برائے ہجرت و مہاجرين کے اہلکاروں کو يہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی درخواست دہندہ مہاجر کی شناخت کے حقيقی تعين کے ليے اس کا ذاتی موبائل فون يا ديگر چيزوں کا معائنہ کر سکيں۔علاوہ ازيں جو مہاجرين اپنی شناخت کے حوالے سے غلط بيانی کر کے جرمنی پہنچے ہوں، ان کی نقل و حرکت کو قانونی طور پر محدود کيا جا سکتا ہے۔ اسی طرح جن مہاجرين کو قانونی طور پر ملک ميں قيام کی اجازت نہيں، ان کی بھی آزاد نقل و حرکت محدود يا ختم کی جا سکتی ہے۔جرمنی کی سولہ رياستيں اس سال فروری ہی ميں ان نئے قوانين کی منظوری دے چکی ہيں۔ انسانی حقوق سے منسلک گروپوں اور امدادی اداروں نے ان نئے قوانين کو تنقيد کا نشانہ بنايا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ نئے قوانين پناہ کی تلاش ميں آنے والے مہاجرين کے بنيادوں حقوق کے منافی ہيں۔ جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے تنقيد کے باوجود نئے قوانين کا دفاع کيا۔ ان کے بقول اس معاملے ميں جرمن حکام کا موقف بالکل واضح ہے، ان کی مدد کی جائے، جو مدد کے مستحق ہيں ليکن جو مدد اور پناہ کے مستحق نہيں، انہيں ملک بدر کيا جائے۔

Editor
Editor
Web Administrator at CNN POINT Admin is the Web Administrator of CNN Point, Admin is the Official Author of CNN Point