صحافی بھی انسان ہیں

  قادر خان یوسف زئی

ہر سال مالیاتی بجٹ آتا ہے ۔ ترقیاتی و غیر ترقیاتی مد میں اربوں کھربوں روپے مختص کئے جاتے ہیں تو دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہ و ینشن سمیت عام مزدور کی اجرت میں کم ازکم اضافہ بھی کیا جاتا ہے ۔ ہر بجٹ کے بعد کے بعد میری نظریں اپنے شعبہ صحافت کی جانب ہوتی ہے کہ کیا حکومت اور صوبائی حکومت نے صحافیوں کے لئے کسی قسم کے ریلیف کا اعلان کیا ہے ۔ عام شہری اور حکومت شاید صحافیوں کو دنیا کی دوسری مخلوق سمجھتے ہیں کہ شائد انھیں کسی قسم کے ضروریات درکارنہیں ہوتی ۔ عمومی طور پر شہریوں کا خیال ہوتا ہے کہ عام صحافی اتنا کما لیتا ہے کہ انھیں مزید آمدنی کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ عام صحافی سے میری مراد ایسے صحافیوں سے ہے جو چھوٹے اور درمیانی اشاعت کے اخبارات سے وابستہ ہیں۔ اور برسوں بر س ایک اخبار سے دوسرے اخبار میں دھکے کھاتے رہتے ہیں ، الیکٹرونک میڈیا کی آمد کے بعد یہ امید ہوگئی کہ صحافیوں میں خوشحالی آئے گی لیکن بڑے میڈیا ہائوس پر وہی بڑے صحافی کہلانے والے اور خوب صورت چہرے قابض ہوگئے جو ماڈلنگ کیلئے تو مناسب خیال ہیں ، لیکن صحافت سے ان کا دور دور تک ان کا واسطہ کبھی نہیں رہا ۔اب ماڈلز بھی صحافی بن گئے ہیں۔
ہر سال سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھتی ہیں ، لیکن باقاعدہ میڈیا ہائوس سے وابستہ کسی صحافی کی باقاعدہ پے اسکیل نہیں بڑھتی۔ زیادہ تر چھوٹے میڈیا ہائوسز میں تنخواہیں دینے کا تورجحان ہی نہیں ہے ۔ اشتہار لائو ، اس میں سے کمیشن لو ، پریس کارڈ لو ، خود بھی کمائو ، اور ہمیں بھی فائدہ دو ۔اب اس شخص کو کیا کہا جائے کہ اس نے صحافت کا شعبہ ہی کیوں اختیار کیا ، اس سے اچھا ، کوئی موچی کی دوکان کھول لیتا ، کرپٹ لوگوں کے بوٹ پالش کرنے سے بہتر تھا کہ وہ رزق حلال کیلئے لوگوں کے بوٹ پالش کرتا تو روزانہ کم ازکم اپنی اولاد کے حلال رزق تو لے جاسکتا تھا ۔ میں میڈیا سے کم ازکم 29سال سے وابستہ ہوں ، جس میں 19سال میں نے بغیر کسی اجرت کے کام کیا ہے۔ اس لئے اس دور کو صحافت کے دور میں شمار ہی نہیں کرتا ۔ مشہور مرحوم اشتیاق احمد میرے پہلے استاد تھے ۔ جس کے بعد مختلف اشاعتی اداروں میں شوقیہ کہانیاں بھیجتا رہا اور باقاعدہ چھپتی رہی ، کیونکہ یہ شوقیہ عمل تھا اس لئے ایسے کسی صحافت کے کسی بھی شعبے سے وابستہ نہیں کرتا ، لیکن جب باقاعدہ طور پر میڈیا کنسلٹنٹ کے طور پر عملی طور پر صحافت سے وابستہ ہوا ۔تو صحافیوں کے اطوار سامنے آئے ۔ آج بھی میں ان کی دل سے عزت کرتا ہوں کہ انھوں نے مجھے رہنمائی دی ۔ میں کسی خاص ایک ، دو شخص کا نام لیکر دوسرے صحافی کا قد کم نہیں کرسکتا ۔ لیکن چند شخصیات ایسی ہیں ، جن کی وجہ سے میری پہچان بنی ۔ میں آج بھی ان کے مشوروں کا احسان مند ہوں ۔ اپنا اجمالی تعارف کرانے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ میں قارئین کے سامنے اس بات کو لا سکوں کہ صحافی ، پرنٹ میڈیا یا ہو یا الیکٹرونک میڈیا کا ہو ، وہ ابھی ایک انسان اور اس کی بھی معاشی ضروریات ہیں ۔ جن کو میں قریب سے دیکھا ہے ۔میں نے میڈیا کنسلٹنٹ کے طورپر کئی صحافیوں کو لفافے بھی دئیے اور کئی صحافیوں کی جھڑکیاں بھی سنیں کہ ہمیں اپنی خبروں سے کام ہے لفافے اپنے پاس رکھو ۔
صحافت کا شعبہ حکومت کا چوتھا ستون ہے ۔ کالی بھیڑیں ہر جگہ پائی جاتی ہیں ، میڈیا بھی کوئی کوئی مقدس گائے نہیں ہے ۔ ہمارے کئی صحافی ، سرکاری اداروں سے مراعات لیتے ہیں ، گو کہ ان کی بڑے میڈیا ہائوس میں اچھی تنخواہ کے باوجود ، ہوس زر کی ضرورت پوری نہیں ہوتی ، کوئی کسی وزیر کا میڈیا کو آرڈی نیٹر بن جاتا ہے ، کوئی لاکھوں روپے تنخواہ لیکر مشیر بن جاتا ہے ۔ کوئی کسی مشہور شخصیت کے لئے مشہور اخبار میں اُس کے نام سے کالم لکھتا ہے ، تو کوئی پلاٹ حاصل کرتا ہے ، کوئی بیرون ملک کے دورے کرتا ہے ۔ برسوں برس سے بیورو کریسی سے وابستہ صحافی حکومتی وفد میں شامل ہوکر دنیا بھر کی تفریح کرتے نظر آتے ہیں ۔ جو صحافت میں آنے سے پہلے نوکیا 3310اور پھٹییجر موٹر سائیکل اور کچی آبادی میں رہتا ہے ۔ وہ صحافتی تنظیم کا عہدے دار بن کر آئی فون کے کم ازکم تین فون رکھتے ہیں ، نئی ائیر کنڈیشن گاڑی اور پوش علاقے میں رہائش اختیار کرچکے ہیں ، کسی نے اپنے میڈیا ہائوس کا سہارا لیکر سرکاری نوکریاں تک حاصل کیں اور ایسے کئی ممبران کو پریس کلب کی رکنیت سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔
یہ اپَر کلاس صحافت سے وابستہ کچھ کرداروں کا ایک رخ ہے ۔اس میں تمام صحافی شامل نہیں ہے ، لیکن ان انگلیوں پر شمار نہیں کیا جاسکتا ۔بلکہ ایسے صحافیوں کی بڑی تعداد ہے ۔ جو اپنے میڈیا ہائوس میں اتنا رسوخ رکھتے ہیں کہ اپنے پسند احباب کی سفارش کرکے انھیں بھرتی بھی کرالیتے ہیں جس سے اُن صحافیوں کی حق تلفی ہوتی ہے جو بہتر مستقبل کیلئے دن رات کوشاں ہوتے ہیں۔بہرحال سفارشی کلچر تو ہمارے معاشرے کا حصہ بن چکا ہے ۔ اس لئے اس پر وقت کیوں ضائع کیا جائے ۔ لیکن ہاتھ کی سب انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتی ۔ آج کا کالم لکھنے کی وجہ ایک ایسے صحافی کی سوشل میڈیا میں ویڈیو دیکھنے کے بعد ہوا جس میں اس صحافی کی ایک ٹانگ آپریشن میں کاٹی جاچکی ہے جبکہ دوسری ٹانگ بھی کاٹی جا رہی ہے ، مقامی اسپتال نے تین لاکھ روپے خرچا بتا یا کہ اگر پیسے جمع نہیں ہوئے تو دوسری ٹانگ بھی ضائع ہوجائے گی ۔ لیکن کسی الیکڑونک میڈیا نے اس’ چھوٹے ‘ ( جونیئر) صحافی کے حوالے سے کوئی فوٹیج نہیں چلائی ، اسی طرح ایک خاتون سنیئر صحافی چہلم بم دھماکے میں زخمی ہوگئی تھیں ، وزیر اعلی نے امداد کے طور دو لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا تھا ، لیکن کئی سال گذر جانے کے باوجود ابھی تک امداد نہیں مل سکی ۔ حال ہی میں ان سنیئر خاتون صحافی نے ‘ صحافیوں ‘ کی نام نہاد تنظیم کو چھوڑ دیا جو کروڑوں روپو ں کی گرانٹ لیکر بیرون ملک اپنے بچوں کی تعلیم دلاتے ہیں کہ ان کی اسکالر شپ دی جا رہی ہے ، آٹھ نو سال سے نئی ممبر شپ پر پابندی عائد ہے ۔ اعزازی ممبر شب گرانٹ کے نام پر فروخت کی جاتی ہے ۔ عوام نہیں جانتے کہ جونیئر یا سنیئر کا تصور مخصوص عناصر نے پیدا کردیا ہے ۔ فیلڈ میں کام کرنے والے صحافیوں کی تنخوائیں آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہوتی ، اگر بیمار ہوجائے تو کوئی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے ۔ ٹارگٹ کلنگ ہوجائے تو اس کے گھر کے کسی فرد کو ملازمت نہیں ملتی ۔ اپنے ارد گرد اس چمکتی دھمکتی دنیا کو دکھانے کے لئے جونیئر صحافی زمین آسمان ایک کردیتا ہے ۔ اس کی کوئی صبح نہیں اس کی کوئی شام نہیں، کوئی تہوار نہیں، کوئی رشتے دار نہیں، کوئی دن نہیں، کوئی رات نہیں، کوئی رسومات نہیں، بس اس نے پیدل جانا ہے یا موٹر سائیکل پر ، اس کو ایونٹ کور کرنا ، اگر کسی کی خبر شائع ہونے سے رہ جائے تو اس کو دہمکیاں الگ۔کراچی کے پر تشدد ماحول میں ایسے معاملات میں دیکھے کہ کسی صحافی سے کسی گینگ وار کو پرخاش ہے تو اس کے نام سے دوسرے مخالف گروپ کے خلاف خبر شائع کرادی ، گھر واپسی پر صحافی کو پتہ ہی نہیں کہ اس کا قصور کیا ہے ۔ میں بذات خود ایک ایسے صحافی کو جانتا ہوں کہ جس نے لیاری کا علاقہ چھوڑ کر پنجاب واپس چلا گیا ۔ کتنے جونیئر صحافی لیاری گینگ وار میں شہید ہوئے ۔ چھوٹے دفاتر پر حملے ہوئے ، صحافتی تنظیموں کا کردار کچھ بھی نہیں رہا ، لیکن ان کے کسی ممبر کی کسی ست ذاتی پرخاش ہوجاتی ہے تو موم مافیا کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں۔ میں بھی صحافی ہوں ، دھمکیاں بھی ملتی ہیں ۔ قاتلانہ حملوں میں زخمی بھی ہوا ہوں ۔ مجال ہے کہ کسی صحافتی تنظیم کے کسی رکن نے فون پر عیادت بھی کی ہو۔ میری باتیں ان گروپوں کو ناگوار گذاریں گی جو صحافیوں کے نام پر فائدہ اٹھاتے اٹھاتے اتنے عیش پرست ہوگئے ہیں کہ ان کی تنخوائیں صرف جیب خرچہ بھی نہیں کہلاتی ۔ آپریشن رد الفساد میں ان صحافیوں کی اسکروٹنی کی جائے جو آئے موٹر سائیکل میں تھے اور اب ہر سال نئی گاڑیاں ، نئے ماڈل کی تبدیل کرتے ہیں ، میڈیا کو مقدس گائے نہ سمجھا جائے ، کالی بھیڑوں نے اس مقدس پیشے کو بھی بد نام کردیا ہے ۔ آج کل صحافت کو بھی مافیا قرار دیا جاتا ہے۔ حکومت کو صحافیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے، ان کے بروزگار کے تحفظ کیلئے قانون سازی کے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ یہاں ایک منٹ کے نوٹس پر جب چاہیے کسی بھی صحافی کو ادارے سے نکال دیا جاتا ہے زیادہ تر میڈیا ہائوس میں مہینوں مہینوں تنخواہیں نہیں ملتی ، ان کی جان مال ، عزت ناموس اور عزت نفس کا خیال نہیں رکھا جاتا ۔ میرا شکوہ ان صحافتی تنظیموں سے ہے جنھوں نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے ۔ اور میڈیا کارکنان پر پریس کلب پر ایک عشرے سے پابندی لگائی ہوئی ہے۔ کیا آزادی اظہار رائے کا قانون صرف دوسروں پر عائد ہوتا ہے ؟؟

Shahid Ghuman
Shahid Ghuman
شاہد گھمن ورسٹائل صحافی ہیں اور ان کا صحافت کا 20سالہ تجربہ ہے۔ان کی بین الاقوامی امور پر گرفت ہے۔شاہد گھمن نہ صرف صحافی ہیں بلکہ اینکر پرسن ہیں اور مختلف ٹی وی پروگرامز کے میزبان بھی ہیں۔