روبوٹ 2040 کے بعد انسانوں کے خلاف جنگ چھیڑ سکتے ہیں، روبوٹ ماہر کا دعویٰ

CNN.سائنس فکشن مصنف اور روبوٹ ماہر کے مطابق یہ جنگ اس وقت ہوسکتی ہے جب ذہین روبوٹس کی تعداد انسانوں سے بڑھ جائے گی۔ فوٹو؛ فائل
ٹورنٹو: ایک سائنس فکشن مصنف اور روبوٹ کے ماہر نے خبردار کیا ہے کہ صرف 25 سال بعد انسانوں اور روبوٹ کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔
کینیڈا میں سائنس فکشن مصنف اور مصنوعی ذہانت کے ماہر لوگان اسٹروئنج کے مطابق 2040 اور 2055 کے درمیان انسانوں اور روبوٹس کے درمیان اس وقت تنازعہ نما جنگ شروع ہوجائے گی جب روبوٹس کی تعداد انسانوں سے بڑھ جائے گی۔ اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ ٹرمینٹر فلم جیسی لڑائی بھی ہوسکتی ہے، روبوٹ اور انسانوں کے درمیان اس وقت تناؤ بڑھے گا جب مصنوعی ذہانت ایک حد سے بڑھے گی اور روبوٹ انسانوں سے اپنی شناخت، مقام اور جگہ کا تقاضہ کریں گے۔
لوگان نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ وہ لڑنے والے ذہین سپاہی روبوٹ نہ بنائیں کیونکہ آگے چل کر وہی تنازعے کی زیادہ وجہ بن سکیں گے۔ ان کے مطابق صرف ایک سال قبل 11 ہزار فوجی روبوٹس دنیا میں موجود تھے اور ان کی شرح 13 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھ رہی ہے اور اس طرح 2040 تک ایسے روبوٹس کی تعداد 2 لاکھ 30 ہزار سے بڑھ جائے گی۔ اس طرح گھر میں کام کرنے والے روبوٹس بھی باغی بن کر لڑاکا روبوٹس بن جائیں گے اور اپنی اپنی قوت کے مطابق تنازعہ کھڑا کرسکیں گے۔ لوگان نے دنیا کو ذہین ڈرون اور اڑنے والے خودکار طیاروں سے بھی خبردار کیا ہے۔
لوگان کے مطابق روبوٹ کسی اجتماعی ذہانت کے تحت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر انسانوں کے خلاف بغاوت بھی شروع کرسکتے ہیں ۔ وہ خبردار کررہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت والے کمپیوٹرز اور پروگرام ہر حال میں احتیاط برتیں کیونکہ سافٹ ویئر ازخود قریبی ہارڈ ویئر پر قابو پاسکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مشہور سائنسداں اسٹیفن ہاکنگ اور دیگر اسکالر حکومتوں کو مصنوعی ذہانت کے خوفناک اثرات سے خبردار کرچکے ہیں.

Editor
Editor
Web Administrator at CNN POINT Admin is the Web Administrator of CNN Point, Admin is the Official Author of CNN Point